چراغ راہ بنے شمع انجمن نہ رہے
چراغ راہ بنے شمع انجمن نہ رہے
خدا کرے کہ مرا فن بھی میرا فن نہ رہے
دلوں کے پھول تبسم کے پھول پیار کے پھول
کھلیں یہ پھول تو پھر برق کا چلن نہ رہے
نگاہ بھر کے مجھے دیکھ جام بھر کے پلا
مری جبیں پہ غم دہر کی شکن نہ رہے
تمہارے قبضۂ قدرت میں مہر و ماہ سہی
مگر یہ کیا کہ مرے پاس اک کرن نہ رہے