Mohammad Ali Taj

محمد علی تاج

  • 1926 - 1978

محمد علی تاج کی غزل

    حرم و دیر کے منظر نہیں دیکھے جاتے

    حرم و دیر کے منظر نہیں دیکھے جاتے دیکھنے والوں سے پتھر نہیں دیکھے جاتے سرخ رو ہیں کہ ابھی پاؤں میں چھالے ہیں بہت جہد والوں میں مقدر نہیں دیکھے جاتے شوق درماں ہو تو آ روشنیٔ دل لے کر زخم دل شمع جلا کر نہیں دیکھے جاتے یہ تو انسانوں کے ٹوٹے ہوئے دل ہیں ساقی ہم سے ٹوٹے ہوئے ساغر ...

    مزید پڑھیے

    نقیب صبح تو تھے ہم رہین شام غم نکلے

    نقیب صبح تو تھے ہم رہین شام غم نکلے بڑے جھوٹے ترے وعدے ترے قول و قسم نکلے انہیں دیر و حرم والے بھی کتنا پیار کرتے ہیں تری محفل سے جتنے باغیٔ دیر و حرم نکلے جو دیکھا تو زمیں بھی دور تھی پائے تجسس سے جو سمجھا تو ستارے بھی مرے زیر قدم نکلے

    مزید پڑھیے

    وہ آنکھیں کیا جنہیں آیا نہ رونا

    وہ آنکھیں کیا جنہیں آیا نہ رونا دلوں کی موت ہے غم کا نہ ہونا غموں کی آنچ حد سے بڑھ چکی ہے بڑی مشکل ہے میٹھی نیند سونا زمانے بھر کا غم اپنا لیا ہے قیامت ہو گیا حساس ہونا

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2