ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے
ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے
بہار آ کے رہے گی بہار راہ میں ہے
بڑھے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
یہ وہ مقام ہے جس کا شمار راہ میں ہے
ہمارا کیا ہے دوانے ہیں کچھ بھی کر گزریں
یقیں کرو کہ تمہارا وقار راہ میں ہے
نہ پاؤں تھمتے ہیں اپنے نہ حوصلے دل کے
سنا ہے جب سے کوئی خار زار راہ میں ہے
نظر لگے نہ کہیں اس کو چاند تاروں کی
جو ایک ذرۂ گردوں شکار راہ میں ہے