Mirza Farhan Ariz

مرزا فرحان عارض

مرزا فرحان عارض کی غزل

    اس کی یادوں سے لے کے منظوری

    اس کی یادوں سے لے کے منظوری بعد مدت کے نیند کی پوری وصل ہے اپنی ذات کی قربت ہجر ہے اپنے آپ سے دوری روشنی کر دیا جلا لیکن دھیان میں رکھ ہوا کی مخموری زندگی نام رکھ دیا اس کا نام رکھنا تھا جس کا مجبوری تم جو چاہو نہ دو کوئی اجرت دل مسلسل کرے گا مزدوری

    مزید پڑھیے

    بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے

    بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے زندگی بس نظر کا دھوکا ہے پیڑ پودے گرا دئے جس نے اس ہوا میں چراغ رکھا ہے دیکھ دریا اسی کو کہتے ہیں جو کناروں میں رہ کے بہتا ہے اک مصور کو جانتا ہوں میں دشت میں جو شجر بناتا ہے اس کی تعبیر کا بنے گا کیا میں نے جو خواب خود تراشا ہے روشنی کے قریب جتنا ہوں قد ...

    مزید پڑھیے

    تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

    تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بری نظر اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ روپ دے دل کے اجاڑ باغ میں تازہ گلاب ڈھونڈ یہ نیک ہستیاں ہیں یہاں میرا کام کیا تو میرے واسطے کوئی جائے خراب ...

    مزید پڑھیے

    ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے

    ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے بات جذبے کی ہے یا بات ضرورت کی ہے وہ بھی کیسا ہے کسک دل کی سمجھتا ہی نہیں میں بھی کیسا ہوں نہ شکوہ نہ شکایت کی ہے حوصلہ ہار دیا جلد ہی میں نے اپنا چھوڑ دینے میں ذرا اس نے بھی عجلت کی ہے کیا ستم ہے کہ بہاروں کے حسیں موسم میں ہم پرندوں نے ترے شہر سے ...

    مزید پڑھیے

    ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے

    ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے محبت میں اک دل پہ کہرام دو تھے تری آس کا تھا یہ عالم کہ شب بھر میں تنہا تھا کمرے میں اور جام دو تھے الجھ ہی گیا میں خریداری کرتے دکانوں میں ہر چیز کے دام دو تھے بڑے لوگ تھے میرے قصے میں شامل مگر میرے قصے میں بدنام دو تھے نکل آئے تھے وہ بھی جب چاند ...

    مزید پڑھیے

    درد پت جھڑ کے سارے ہمارے ہوئے

    درد پت جھڑ کے سارے ہمارے ہوئے سب بہاروں کے موسم تمہارے ہوئے حسرت دید لے کے ہی جاں سے گئے شوق دیدار کے جو تھے مارے ہوئے راس آئی نہ سوداگری پیار کی ہم کو اس کام سے بس خسارے ہوئے آ گئے پھر سے وہ تو زد چشم بد گھر سے نکلے نظر جو اتارے ہوئے ساتھ اس کے جو نکلا سر راہ میں جانے کس کس طرف ...

    مزید پڑھیے

    غم بھلا کیسے کھلے اس پہ ہمارے والا

    غم بھلا کیسے کھلے اس پہ ہمارے والا ہم تو ہیں بیچ بھنور کے وہ کنارے والا ہم نے پہنی ہے قبا ہجر مسلسل والی اس کا آنچل ہے مقدر کے ستارے والا رات اک پھر سے گزاری ہے کسی وحشت میں ایک دن پھر سے گزارا ہے گزارے والا اپنے رستے پہ ہی رہتا ہوں میں لیکن مجھ کو راستہ کھینچتا رہتا ہے تمہارے ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کی بھیگی ہوئی رات اداسی اور میں

    ہجر کی بھیگی ہوئی رات اداسی اور میں آج پھر روئے ہیں برسات اداسی اور میں ہو کے مجبور کیا اس کو حوالے اس کے ایسے آئے ہیں مرے ہات اداسی اور میں چند آنسو مری آنکھوں سے نکل آتے ہیں جب بھی کرتے ہیں تری بات اداسی اور میں بیٹھ جاتے ہیں تری یاد لیے ٹیرس پر روز کرتے ہیں ملاقات اداسی اور ...

    مزید پڑھیے

    بن کے یوسف میں کبھی زیر قفس جاتا ہوں

    بن کے یوسف میں کبھی زیر قفس جاتا ہوں کبھی مجنوں کی طرح دشت میں پھنس جاتا ہوں جب بھی اٹھتے ہیں تری یاد کے شعلے دل سے کھال بچتی ہے میں اندر سے جھلس جاتا ہوں اپنے حصے کے اجالے بھی اسے دیتا ہوں خود اندھیروں میں اجالوں کو ترس جاتا ہوں خواب بن کے میں گزرتا ہوں کئی آنکھوں سے پھر جو ...

    مزید پڑھیے