غم بھلا کیسے کھلے اس پہ ہمارے والا

غم بھلا کیسے کھلے اس پہ ہمارے والا
ہم تو ہیں بیچ بھنور کے وہ کنارے والا


ہم نے پہنی ہے قبا ہجر مسلسل والی
اس کا آنچل ہے مقدر کے ستارے والا


رات اک پھر سے گزاری ہے کسی وحشت میں
ایک دن پھر سے گزارا ہے گزارے والا


اپنے رستے پہ ہی رہتا ہوں میں لیکن مجھ کو
راستہ کھینچتا رہتا ہے تمہارے والا


اک پتنگے نے چراغوں سے کہا ہے عارضؔ
پیار تو اصل میں سودا ہے خسارے والا