ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے

ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے
محبت میں اک دل پہ کہرام دو تھے


تری آس کا تھا یہ عالم کہ شب بھر
میں تنہا تھا کمرے میں اور جام دو تھے


الجھ ہی گیا میں خریداری کرتے
دکانوں میں ہر چیز کے دام دو تھے


بڑے لوگ تھے میرے قصے میں شامل
مگر میرے قصے میں بدنام دو تھے


نکل آئے تھے وہ بھی جب چاند نکلا
نظارے بھی عارضؔ لب بام دو تھے