تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ
تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ
عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ
اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بری نظر
اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ
کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ روپ دے
دل کے اجاڑ باغ میں تازہ گلاب ڈھونڈ
یہ نیک ہستیاں ہیں یہاں میرا کام کیا
تو میرے واسطے کوئی جائے خراب ڈھونڈ
یا مجھ کو دست یار سے پانی کا گھونٹ دے
یا جو رگوں کو تر کرے ایسی شراب ڈھونڈ
وہ جس پہ چند روز تکبر رہا تجھے
عارضؔ کہاں گیا ترا زور شباب ڈھونڈ