ہجر کی بھیگی ہوئی رات اداسی اور میں

ہجر کی بھیگی ہوئی رات اداسی اور میں
آج پھر روئے ہیں برسات اداسی اور میں


ہو کے مجبور کیا اس کو حوالے اس کے
ایسے آئے ہیں مرے ہات اداسی اور میں


چند آنسو مری آنکھوں سے نکل آتے ہیں
جب بھی کرتے ہیں تری بات اداسی اور میں


بیٹھ جاتے ہیں تری یاد لیے ٹیرس پر
روز کرتے ہیں ملاقات اداسی اور میں


جب کوئی اور میسر نہیں ہوتا مجھ کو
تب بھی ہوتے ہیں مرے ساتھ اداسی اور میں