ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے

ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے
بات جذبے کی ہے یا بات ضرورت کی ہے


وہ بھی کیسا ہے کسک دل کی سمجھتا ہی نہیں
میں بھی کیسا ہوں نہ شکوہ نہ شکایت کی ہے


حوصلہ ہار دیا جلد ہی میں نے اپنا
چھوڑ دینے میں ذرا اس نے بھی عجلت کی ہے


کیا ستم ہے کہ بہاروں کے حسیں موسم میں
ہم پرندوں نے ترے شہر سے ہجرت کی ہے


کچھ نمی سی مری آنکھوں میں امنڈ آتی ہے
جب کہے کوئی کہ میں نے بھی محبت کی ہے


چاہے سارا ہی زمانہ ہے مخالف اس کا
پھر بھی عارضؔ نے فقط اس کی حمایت کی ہے