بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے

بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے
زندگی بس نظر کا دھوکا ہے


پیڑ پودے گرا دئے جس نے
اس ہوا میں چراغ رکھا ہے


دیکھ دریا اسی کو کہتے ہیں
جو کناروں میں رہ کے بہتا ہے


اک مصور کو جانتا ہوں میں
دشت میں جو شجر بناتا ہے


اس کی تعبیر کا بنے گا کیا
میں نے جو خواب خود تراشا ہے


روشنی کے قریب جتنا ہوں
قد میں اتنا ہی میرا سایہ ہے


کچھ نظارے ضروری ہوتے ہیں
ورنہ آنکھوں میں درد رہتا ہے


ہم کو ملنے وہ آئیں گے عارضؔ
ہاں مگر یہ خیال اچھا ہے