بن کے یوسف میں کبھی زیر قفس جاتا ہوں

بن کے یوسف میں کبھی زیر قفس جاتا ہوں
کبھی مجنوں کی طرح دشت میں پھنس جاتا ہوں


جب بھی اٹھتے ہیں تری یاد کے شعلے دل سے
کھال بچتی ہے میں اندر سے جھلس جاتا ہوں


اپنے حصے کے اجالے بھی اسے دیتا ہوں
خود اندھیروں میں اجالوں کو ترس جاتا ہوں


خواب بن کے میں گزرتا ہوں کئی آنکھوں سے
پھر جو بھاتی ہے اسی آنکھ میں بس جاتا ہوں


بن کے اٹھتا ہوں بخارات دل تنہا سے
پھر میں آنکھوں کی گھٹاؤں سے برس جاتا ہوں