اس کی یادوں سے لے کے منظوری
اس کی یادوں سے لے کے منظوری
بعد مدت کے نیند کی پوری
وصل ہے اپنی ذات کی قربت
ہجر ہے اپنے آپ سے دوری
روشنی کر دیا جلا لیکن
دھیان میں رکھ ہوا کی مخموری
زندگی نام رکھ دیا اس کا
نام رکھنا تھا جس کا مجبوری
تم جو چاہو نہ دو کوئی اجرت
دل مسلسل کرے گا مزدوری