درد پت جھڑ کے سارے ہمارے ہوئے
درد پت جھڑ کے سارے ہمارے ہوئے
سب بہاروں کے موسم تمہارے ہوئے
حسرت دید لے کے ہی جاں سے گئے
شوق دیدار کے جو تھے مارے ہوئے
راس آئی نہ سوداگری پیار کی
ہم کو اس کام سے بس خسارے ہوئے
آ گئے پھر سے وہ تو زد چشم بد
گھر سے نکلے نظر جو اتارے ہوئے
ساتھ اس کے جو نکلا سر راہ میں
جانے کس کس طرف سے اشارے ہوئے
گھر تو ڈوبا تھا پانی میں طغیانی سے
پھر بھی رسوا ندی کے کنارے ہوئے
کیسے پہچان لیں ہم کسی کو یہاں
لوگ ہیں روپ پر روپ دھارے ہوئے
جیت کر ہم سے عارضؔ بہت خوش تھے وہ
کتنے مسرور تھے ہم بھی ہارے ہوئے