Mehdi Baqar Khan Meraj

مهدی باقر خان معراج

مهدی باقر خان معراج کی غزل

    ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے

    ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے زمین عشق کی خاطر تو آسمان سا ہے جو کل تلک مرے سائے کا بھی مخالف تھا سنا ہے آج وہ دشمن بھی مہربان سا ہے اگر ہو عزم جواں ہم سفر مسافر کے اکیلا ہو کے بھی وہ شخص کاروان سا ہے وہ جس نے جوڑ دیا وصل کو فراق کے ساتھ وہ لمحہ دوستو نا قابل بیان سا ہے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    موت کو نظر تو سانسوں کے نوالے کر دے

    موت کو نظر تو سانسوں کے نوالے کر دے عزم کو تیغ ارادوں کو تو بھالے کر دے خیمۂ دل میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں تو اگر چاہے تو پل بھر میں اجالے کر دے تاکہ سنسان شبستان کو وارث مل جائے اک دیا کوئی حویلی کے حوالے کر دے پھوٹ کے رونا ہے تجھ کو تو سر راہ نہ رو اتنا احسان مرے پاؤں کے ...

    مزید پڑھیے

    زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے

    زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے میرے آنگن میں کچھ اس طرح بہار آئی ہے صبر کی جیت ہوئی ضبط کا قد اور اٹھا پھر سے اے ظلم ترے حصہ میں پسپائی ہے آدمی عشق وفا اہل مروت ایماں یہ نہ ڈھونڈو کہ جہاں میں بڑی مہنگائی ہے ساری دولت ہے یہی میری بضاعت ہے یہی بس تری یاد ہے میں ہوں مری تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے

    وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے مری آنکھوں کو کچھ دھوکا نہیں ہے نہ اتنی جلد اتنے بد گماں ہو ابھی تم نے مجھے سمجھا نہیں ہے نظر دل دھڑکنیں جذبات آنسو پرایا ہے یہ سب اپنا نہیں ہے کچھ ایسے نام بھی دل پر رقم ہیں کہ جن سے ربط ہے رشتہ نہیں ہے جو شیشہ‌ گر ہوا کرتے تھے کل تک اب ان ہاتھوں ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں

    جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں کچھ نئے انکشاف ہوتے ہیں بے گناہی ہی جرم ہو جن کا لوگ وہ کب معاف ہوتے ہیں رقص کرتی ہے بندگی واعظ ہم جو محو طواف ہوتے ہیں ساری دنیا خلاف لگتی ہے جب وہ میرے خلاف ہوتے ہیں اب چھپانے کی بھی ضرورت کیا اب تو چہرے غلاف ہوتے ہیں کچھ تو نظریں جھکاؤ اے ...

    مزید پڑھیے

    خود سے انجان ہو گیا ہوں میں

    خود سے انجان ہو گیا ہوں میں کتنا نادان ہو گیا ہوں میں ہجر یادیں فراق دولت غم خوب دھنوان ہو گیا ہوں میں لوگ مجھ سے ہی تجھ کو جانتے ہیں تیری پہچان ہو گیا ہوں میں میں اندھیرے میں چار سو روشن اک شمع دان ہو گیا ہوں میں

    مزید پڑھیے

    اور کوئی بات سر بزم سخن کب نکلی

    اور کوئی بات سر بزم سخن کب نکلی بس تری بات ہی نکلی ہے یہاں جب نکلی آنکھ میں غم کا دھواں لب پہ تبسم کی کرن اس کے چہرے کی اداسی بھی مہذب نکلی کیا عجب رسم عدالت ہے کہ ہر جرم کے بعد میرے اعمال میں نکلی ہے خطا جب نکلی سن کے سورج کی شہادت کی خبر کرنوں سے اوڑھ کر کالی ردا شام گئے شب ...

    مزید پڑھیے

    زمین درہم و برہم دکھائی دینے لگی

    زمین درہم و برہم دکھائی دینے لگی امید وصل جو مبہم دکھائی دینے لگی ہے قہقہوں کے پس پشت گریۂ پیہم مری خوشی بھی مجھے غم دکھائی دینے لگی مکان عشق کا معمار جب سے روٹھ گیا فصیل زیست مجھے خم دکھائی دینے لگی اداس گزرے ہیں میرے کئی پہر پیہم جو ایک پل کو تری آنکھ نم دکھائی دینے لگی یہ ...

    مزید پڑھیے

    دل کے جذبوں کا لہو قتل انا ٹھیک نہیں

    دل کے جذبوں کا لہو قتل انا ٹھیک نہیں اس کی ہر بات پہ تسلیم و رضا ٹھیک نہیں سانس میں جلتے مکانوں کا دھواں آتا ہے اے مرے شہر تری آب و ہوا ٹھیک نہیں گر کسی لو سے فسادوں کا دھواں اٹھتا ہو روشنی بخش سہی ایسا دیا ٹھیک نہیں لذت درد سے جب ملنے لگے رزق حیات تب کوئی چارہ گری فکر دوا ٹھیک ...

    مزید پڑھیے

    اب زندگی کو اک نیا عنوان چاہئے

    اب زندگی کو اک نیا عنوان چاہئے آزادیاں نہیں مجھے زندان چاہئے ڈر ہے کہ جم نہ جائے کسی کی نظر کی گرد قرآن حسن کے لئے جزدان چاہئے خالی مکان دل ہے کہیں آ بسیں نہ غیر در پر تمہاری یاد کا دربان چاہئے مسلم مسیحی ہندو و سکھ ہیں بہت مگر دنیا کو امن کے لئے انسان چاہئے میرا وطن ہی میرا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2