وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے

وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے
مری آنکھوں کو کچھ دھوکا نہیں ہے


نہ اتنی جلد اتنے بد گماں ہو
ابھی تم نے مجھے سمجھا نہیں ہے


نظر دل دھڑکنیں جذبات آنسو
پرایا ہے یہ سب اپنا نہیں ہے


کچھ ایسے نام بھی دل پر رقم ہیں
کہ جن سے ربط ہے رشتہ نہیں ہے


جو شیشہ‌ گر ہوا کرتے تھے کل تک
اب ان ہاتھوں میں آئینہ نہیں ہے


خجل ہیں ہم وفاؤں پر بھی لیکن
جفاؤں پر وہ شرمندہ نہیں ہے


مری بستی ہے یا آباد جنگل
مکاں موجود ہمسایہ نہیں ہے


وہ اپنی بھوک ہی کھا لیں گے اک دن
وہ جن کے پاس آذوقہ نہیں ہے


نظر بے نور ہوتی جا رہی ہے
بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں ہے


جو دل مصروف ہو یادوں میں تیری
وہ تنہائی میں بھی تنہا نہیں ہے


زوال آبرو بس ایک ضد پر
تمہیں معراج یہ زیبا نہیں ہے