اب زندگی کو اک نیا عنوان چاہئے

اب زندگی کو اک نیا عنوان چاہئے
آزادیاں نہیں مجھے زندان چاہئے


ڈر ہے کہ جم نہ جائے کسی کی نظر کی گرد
قرآن حسن کے لئے جزدان چاہئے


خالی مکان دل ہے کہیں آ بسیں نہ غیر
در پر تمہاری یاد کا دربان چاہئے


مسلم مسیحی ہندو و سکھ ہیں بہت مگر
دنیا کو امن کے لئے انسان چاہئے


میرا وطن ہی میرا چمن ہے بہار ہے
اور اس چمن کو سچا نگہبان چاہئے


کیا زندگی ہے پل کا بھروسے نہیں مگر
صدیوں کے واسطے سر و سامان چاہئے