Mehdi Baqar Khan Meraj

مهدی باقر خان معراج

مهدی باقر خان معراج کی غزل

    رابطے بھی نہیں فاصلہ بھی نہیں

    رابطے بھی نہیں فاصلہ بھی نہیں دور ہوں تجھ سے لیکن جدا بھی نہیں موت ہی سے سہی ذائقے تو ملے زندگی میں تو کوئی مزہ بھی نہیں کس کی آنکھوں میں دیکھیں محبت کا عکس اب تو ایسا کوئی آئینہ بھی نہیں لاکھ غربت شکستوں کے ساماں کرے ہارنے والی میری انا بھی نہیں چاند تارے چمکتے ہیں ان کے ...

    مزید پڑھیے

    نہ التماس و گزارش نہ التجا کوئی

    نہ التماس و گزارش نہ التجا کوئی نہ کوئی حرف دعا ہے نہ مدعا کوئی کوئی شکایت و شکوہ بھی ہے تو خود سے ہے فریب‌ وقت سے ہرگز نہیں گلہ کوئی میں اس یقین کو کیسے گماں شمار کروں ابھی تلک تو مرے ساتھ ساتھ تھا کوئی وہ میری روح میں احساس لمس چھوڑ گیا کچھ اتنے پاس سے ہو کر گزر گیا کوئی بس ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی درد تھکن سوز جگر رکھتا ہے

    تشنگی درد تھکن سوز جگر رکھتا ہے اک مسافر کئی سوغات سفر رکھتا ہے یہ عجب دور ترقی ہے کہ انساں ہر پل خود سے غافل ہے مگر سب کی خبر رکھتا ہے وہ جو ناواقف آداب وفا ہے وہ بھی جذب عشق تہ قلب و جگر رکھتا ہے کام لیتا ہے جو حالات کی ناکامی سے اپنے دامن میں وہی فتح و ظفر رکھتا ہے میرے مالک ...

    مزید پڑھیے

    عبرتوں کے ہر اک بیان میں ہوں

    عبرتوں کے ہر اک بیان میں ہوں درد کی ساری داستان میں ہوں ہر قدم گردشیں ہیں تیرا نصیب میں بھی ہر سانس امتحان میں ہوں خود نشانہ ہوں اور شکار بھی خود تیر ہوں اور ابھی کمان میں ہوں میرا حافظ بڑا محافظ ہے حضرت عشق کی امان میں ہوں وہ خرابہ جو تو نے چھوڑ دیا میں ابھی تک اسی مکان میں ...

    مزید پڑھیے

    زباں ہو چپ تو تیور بولتے ہیں

    زباں ہو چپ تو تیور بولتے ہیں پس منظر سے منظر سے بولتے ہیں بس اک تو ہی تو ہے وہ جس کے حق میں زمیں ذرات پتھر بولتے ہیں لہو گر ترجمان بندگی ہو گلے تک آ کے خنجر بولتے ہیں میں وہ قیدی ہوں جس سے خلوتوں میں گلے کے طوق و لنگر بولتے ہیں سر محفل جو کچھ خاموش سے ہیں وہ تنہائی میں اکثر بولتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2