ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے

ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے
زمین عشق کی خاطر تو آسمان سا ہے


جو کل تلک مرے سائے کا بھی مخالف تھا
سنا ہے آج وہ دشمن بھی مہربان سا ہے


اگر ہو عزم جواں ہم سفر مسافر کے
اکیلا ہو کے بھی وہ شخص کاروان سا ہے


وہ جس نے جوڑ دیا وصل کو فراق کے ساتھ
وہ لمحہ دوستو نا قابل بیان سا ہے


ہمارے بارے میں واضح نہیں خیال اس کا
کبھی وہ خوش تو کبھی قدرے بد گمان سا ہے


بپا ہے کیسا تلاطم جگر کی بستی میں
مری غزل کا ہر اک لفظ ترجمان سا ہے