خود سے انجان ہو گیا ہوں میں

خود سے انجان ہو گیا ہوں میں
کتنا نادان ہو گیا ہوں میں


ہجر یادیں فراق دولت غم
خوب دھنوان ہو گیا ہوں میں


لوگ مجھ سے ہی تجھ کو جانتے ہیں
تیری پہچان ہو گیا ہوں میں


میں اندھیرے میں چار سو روشن
اک شمع دان ہو گیا ہوں میں