دل کے جذبوں کا لہو قتل انا ٹھیک نہیں

دل کے جذبوں کا لہو قتل انا ٹھیک نہیں
اس کی ہر بات پہ تسلیم و رضا ٹھیک نہیں


سانس میں جلتے مکانوں کا دھواں آتا ہے
اے مرے شہر تری آب و ہوا ٹھیک نہیں


گر کسی لو سے فسادوں کا دھواں اٹھتا ہو
روشنی بخش سہی ایسا دیا ٹھیک نہیں


لذت درد سے جب ملنے لگے رزق حیات
تب کوئی چارہ گری فکر دوا ٹھیک نہیں


دکھ سنا کر کے بھی کیا پاؤ گے آخر معراجؔ
سبھی اپنے ہیں اور اپنوں سے گلہ ٹھیک نہیں