اور کوئی بات سر بزم سخن کب نکلی
اور کوئی بات سر بزم سخن کب نکلی
بس تری بات ہی نکلی ہے یہاں جب نکلی
آنکھ میں غم کا دھواں لب پہ تبسم کی کرن
اس کے چہرے کی اداسی بھی مہذب نکلی
کیا عجب رسم عدالت ہے کہ ہر جرم کے بعد
میرے اعمال میں نکلی ہے خطا جب نکلی
سن کے سورج کی شہادت کی خبر کرنوں سے
اوڑھ کر کالی ردا شام گئے شب نکلی
صرف سوچا تھا کہ اک روز بچھڑنا ہوگا
تھم گئی نبض لگا جسم سے جاں اب نکلی