جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں

جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں
کچھ نئے انکشاف ہوتے ہیں


بے گناہی ہی جرم ہو جن کا
لوگ وہ کب معاف ہوتے ہیں


رقص کرتی ہے بندگی واعظ
ہم جو محو طواف ہوتے ہیں


ساری دنیا خلاف لگتی ہے
جب وہ میرے خلاف ہوتے ہیں


اب چھپانے کی بھی ضرورت کیا
اب تو چہرے غلاف ہوتے ہیں


کچھ تو نظریں جھکاؤ اے معراجؔ
یوں کہیں اعتراف ہوتے ہیں