Mehdi Baqar Khan Meraj

مهدی باقر خان معراج

مهدی باقر خان معراج کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے

    ترا خیال مسافر کے سائبان سا ہے زمین عشق کی خاطر تو آسمان سا ہے جو کل تلک مرے سائے کا بھی مخالف تھا سنا ہے آج وہ دشمن بھی مہربان سا ہے اگر ہو عزم جواں ہم سفر مسافر کے اکیلا ہو کے بھی وہ شخص کاروان سا ہے وہ جس نے جوڑ دیا وصل کو فراق کے ساتھ وہ لمحہ دوستو نا قابل بیان سا ہے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    موت کو نظر تو سانسوں کے نوالے کر دے

    موت کو نظر تو سانسوں کے نوالے کر دے عزم کو تیغ ارادوں کو تو بھالے کر دے خیمۂ دل میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں تو اگر چاہے تو پل بھر میں اجالے کر دے تاکہ سنسان شبستان کو وارث مل جائے اک دیا کوئی حویلی کے حوالے کر دے پھوٹ کے رونا ہے تجھ کو تو سر راہ نہ رو اتنا احسان مرے پاؤں کے ...

    مزید پڑھیے

    زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے

    زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے میرے آنگن میں کچھ اس طرح بہار آئی ہے صبر کی جیت ہوئی ضبط کا قد اور اٹھا پھر سے اے ظلم ترے حصہ میں پسپائی ہے آدمی عشق وفا اہل مروت ایماں یہ نہ ڈھونڈو کہ جہاں میں بڑی مہنگائی ہے ساری دولت ہے یہی میری بضاعت ہے یہی بس تری یاد ہے میں ہوں مری تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے

    وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے مری آنکھوں کو کچھ دھوکا نہیں ہے نہ اتنی جلد اتنے بد گماں ہو ابھی تم نے مجھے سمجھا نہیں ہے نظر دل دھڑکنیں جذبات آنسو پرایا ہے یہ سب اپنا نہیں ہے کچھ ایسے نام بھی دل پر رقم ہیں کہ جن سے ربط ہے رشتہ نہیں ہے جو شیشہ‌ گر ہوا کرتے تھے کل تک اب ان ہاتھوں ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں

    جب بھی آئینے صاف ہوتے ہیں کچھ نئے انکشاف ہوتے ہیں بے گناہی ہی جرم ہو جن کا لوگ وہ کب معاف ہوتے ہیں رقص کرتی ہے بندگی واعظ ہم جو محو طواف ہوتے ہیں ساری دنیا خلاف لگتی ہے جب وہ میرے خلاف ہوتے ہیں اب چھپانے کی بھی ضرورت کیا اب تو چہرے غلاف ہوتے ہیں کچھ تو نظریں جھکاؤ اے ...

    مزید پڑھیے

تمام