زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے

زرد امید کے گل ہیں کلی مرجھائی ہے
میرے آنگن میں کچھ اس طرح بہار آئی ہے


صبر کی جیت ہوئی ضبط کا قد اور اٹھا
پھر سے اے ظلم ترے حصہ میں پسپائی ہے


آدمی عشق وفا اہل مروت ایماں
یہ نہ ڈھونڈو کہ جہاں میں بڑی مہنگائی ہے


ساری دولت ہے یہی میری بضاعت ہے یہی
بس تری یاد ہے میں ہوں مری تنہائی ہے


گر تمہیں روٹھ گئے مجھ سے مری جان غزل
پھر غزل کچھ نہیں بے وقت کی شہنائی ہے