مینا خان کی غزل

    یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے

    یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے سمجھے تھے کہ وہ شکوے گلے بھول گئے ہیں معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے رکھیں گے ترے غم کو زمانے سے چھپا کر تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے آزار پہ آزار دئے جائیں گے ہنس کر ہر حال میں وہ ہم پہ کرم کرتے رہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے جس کے لئے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں

    ہم نے جس کے لئے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں اس نے اس دل میں فقط زخم نہاں چھوڑے ہیں ہم نے خود اپنے اصولوں کی حفاظت کے لئے دولتیں چھوڑ دیں شہرت کی جہاں چھوڑے ہیں زندگی ہم نے ترا ساتھ نبھانے کے لئے تپتے صحرا میں بھی قدموں کے نشاں چھوڑے ہیں ہم کسی اور کے ہو جائیں کسی کو چاہیں ایسے ...

    مزید پڑھیے

    کیا بتاؤں کیسی تھی دل کی کیفیت میری

    کیا بتاؤں کیسی تھی دل کی کیفیت میری اس نے مسکرا کر جب پوچھی زوجیت میری پوچھتا ہے جب مجھ سے وہ صلاحیت میری کس قدر تڑپتی ہے پھر یہ اہلیت میری یوں مجھے بسائے ہو دل میں ایک مدت سے کاش تم بتا سکتے سب کو شہریت میری دور تم سے جانے کا اک یہ فائدہ ہوگا کچھ سمجھ تو آئے گی تم کو اہمیت ...

    مزید پڑھیے

    جب جب بھی ہم نے ہم نشیں دل کا کہا نہیں کیا

    جب جب بھی ہم نے ہم نشیں دل کا کہا نہیں کیا ایسا لگا ہے زندگی کا حق ادا نہیں کیا کہنے کو یوں تو آپ سے شکوہ ہزار تھے مگر ہم نے کبھی خلاف دل کوئی گلا نہیں کیا دل کے معاملات تھے دل میں ہی دفن کر لیے اس بے وفا سے ہم نے پھر ذکر وفا نہیں کیا کچھ تو ہوا ضرور ہے ہم سے اگر خفا ہے وہ ہم نے تو ...

    مزید پڑھیے

    پلکوں پہ یہی خواب سجایا ہے کہ تم ہو

    پلکوں پہ یہی خواب سجایا ہے کہ تم ہو یہ سامنے میرے کوئی تم سا ہے کہ تم ہو دستک سی ہوئی جب بھی تو دروازے کو میں نے ہر بار یہی سوچ کے کھولا ہے کہ تم ہو رونق میں اچانک جو اضافہ سا ہوا ہے آنگن میں مرے چاند کا ہالہ ہے کہ تم ہو ہے تلخ حقیقت کہ مجھے چھوڑ گئے ہو احساس مگر اب بھی یہ ہوتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    جمی ہوں برف کی صورت پگھلنا چاہتی ہوں میں

    جمی ہوں برف کی صورت پگھلنا چاہتی ہوں میں حصار ذات سے باہر نکلنا چاہتی ہوں میں دیا بن کر نہاں خانوں میں جلنا چاہتی ہوں میں کسی کی روح کے سانچے میں ڈھلنا چاہتی ہوں میں جدا ہوتی ہی آئی ہے ہمیشہ ہیرؔ رانجھے سے اب اس رسم محبت کو بدلنا چاہتی ہوں میں میں جس مٹی سے آئی ہوں اسی مٹی میں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی جیسا لبھاؤں گی چلی جاؤں گی

    زندگی جیسا لبھاؤں گی چلی جاؤں گی میں ترے خواب میں آؤں گی چلی جاؤں گی اس نے دیکھا ہی نہیں عزم مصمم میرا ہجر اوڑھوں گی بچھاؤں گی چلی جاؤں گی یہ کہانی تو مصنف کی چلے گی برسوں میں تو کردار نبھاؤں گی چلی جاؤں گی میں وہ جگنو ہوں جو تاروں کے سہارے کے بغیر بحر ظلمات مٹاؤں گی چلی جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    تری خوشبو ترا لہجہ میں کہاں سے لاؤں

    تری خوشبو ترا لہجہ میں کہاں سے لاؤں تو بتا دے ترے جیسا میں کہاں سے لاؤں چاند کو گھیر کے رکھتے ہیں ستارے ہر شب پھر بھلا چاند کو تنہا میں کہاں سے لاؤں چشم تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھ لے ایسا ٹھہرا ہوا دریا میں کہاں سے لاؤں اس کی خواہش ہے تعلق کا کوئی نام نہ ہو ایسا بے نام سا ...

    مزید پڑھیے

    ہم پر کرے گا رحمتیں پروردگار بھی

    ہم پر کرے گا رحمتیں پروردگار بھی حالات اپنے ہوں گے کبھی سازگار بھی تو نے بھلا دی چاہتیں قول و قرار بھی ہم منتظر رہے ترے سرحد کے پار بھی حالانکہ کر چکا تھا وہ ترک تعلقات پر کاش مڑ کے دیکھتا بس ایک بار بھی ڈیرا جما لیا ہے خزاں نے کچھ اس طرح اب خوش نہ کر سکے گی یہ فصل بہار بھی اپنی ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹے ہیں آئنوں کی طرح بار بار ہم

    ٹوٹے ہیں آئنوں کی طرح بار بار ہم خود پر ہوئے ہیں جب بھی کبھی آشکار ہم ہوتے ہیں تیری یاد میں جب بے قرار ہم روتے ہیں پہروں بیٹھ کے بے اختیار ہم تیری ہنسی کا قرض چکانے کے واسطے چھپ چھپ کے روتے رہتے ہیں زار و قطار ہم دل بھر گیا ہے کرب مسلسل سے اے خدا اب ڈھونڈتے ہیں ہر گھڑی راہ فرار ...

    مزید پڑھیے