ہم نے جس کے لئے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں

ہم نے جس کے لئے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں
اس نے اس دل میں فقط زخم نہاں چھوڑے ہیں


ہم نے خود اپنے اصولوں کی حفاظت کے لئے
دولتیں چھوڑ دیں شہرت کی جہاں چھوڑے ہیں


زندگی ہم نے ترا ساتھ نبھانے کے لئے
تپتے صحرا میں بھی قدموں کے نشاں چھوڑے ہیں


ہم کسی اور کے ہو جائیں کسی کو چاہیں
ایسے اسباب مگر اس نے کہاں چھوڑے ہیں


جس کی پرچھائی لئے پھرتی ہیں آنکھیں میری
اس نے پلکوں پہ مری آب رواں چھوڑے ہیں