ہم پر کرے گا رحمتیں پروردگار بھی

ہم پر کرے گا رحمتیں پروردگار بھی
حالات اپنے ہوں گے کبھی سازگار بھی


تو نے بھلا دی چاہتیں قول و قرار بھی
ہم منتظر رہے ترے سرحد کے پار بھی


حالانکہ کر چکا تھا وہ ترک تعلقات
پر کاش مڑ کے دیکھتا بس ایک بار بھی


ڈیرا جما لیا ہے خزاں نے کچھ اس طرح
اب خوش نہ کر سکے گی یہ فصل بہار بھی


اپنی نگاہ میں تو رہے سرخ رو سدا
انساں میں ہونا چاہیئے اتنا وقار بھی


یہ اپنے رہنماؤں کے وعدوں کا ہے اثر
بے اعتبار ہو گیا اب اعتبار بھی


یہ کیسا دور آ گیا میناؔ کہ اب یہاں
سکوں کے مول بکتا ہے اپنوں کا پیار بھی