ٹوٹے ہیں آئنوں کی طرح بار بار ہم

ٹوٹے ہیں آئنوں کی طرح بار بار ہم
خود پر ہوئے ہیں جب بھی کبھی آشکار ہم


ہوتے ہیں تیری یاد میں جب بے قرار ہم
روتے ہیں پہروں بیٹھ کے بے اختیار ہم


تیری ہنسی کا قرض چکانے کے واسطے
چھپ چھپ کے روتے رہتے ہیں زار و قطار ہم


دل بھر گیا ہے کرب مسلسل سے اے خدا
اب ڈھونڈتے ہیں ہر گھڑی راہ فرار ہم


مرجھا گئے ہیں شاخ تمنا کے گل سبھی
اب کیا منائیں میناؔ یہ جشن بہار ہم