کیا بتاؤں کیسی تھی دل کی کیفیت میری

کیا بتاؤں کیسی تھی دل کی کیفیت میری
اس نے مسکرا کر جب پوچھی زوجیت میری


پوچھتا ہے جب مجھ سے وہ صلاحیت میری
کس قدر تڑپتی ہے پھر یہ اہلیت میری


یوں مجھے بسائے ہو دل میں ایک مدت سے
کاش تم بتا سکتے سب کو شہریت میری


دور تم سے جانے کا اک یہ فائدہ ہوگا
کچھ سمجھ تو آئے گی تم کو اہمیت میری


یہ بھی خوش نصیبی ہے جو کہ لکھی جاتی ہے
وارثوں کے کھانے میں اب بھی ولدیت میری


غیر کا ہے تو لیکن پھر بھی مطمئن ہوں میں
کچھ حسین لمحے ہیں کیونکہ ملکیت میری


نام سب کا گنتی ہوں دوستو کے میں اپنے
جب بھی پوچھ لیتا ہے کوئی حیثیت میری


جان اس پہ دیتی ہوں ملک ہے یہ میرا بھی
پھر بھی پوچھتے ہو تم مجھ سے قومیت میری