جمی ہوں برف کی صورت پگھلنا چاہتی ہوں میں
جمی ہوں برف کی صورت پگھلنا چاہتی ہوں میں
حصار ذات سے باہر نکلنا چاہتی ہوں میں
دیا بن کر نہاں خانوں میں جلنا چاہتی ہوں میں
کسی کی روح کے سانچے میں ڈھلنا چاہتی ہوں میں
جدا ہوتی ہی آئی ہے ہمیشہ ہیرؔ رانجھے سے
اب اس رسم محبت کو بدلنا چاہتی ہوں میں
میں جس مٹی سے آئی ہوں اسی مٹی میں ملنے تک
ہزاروں بار گر کر بھی سنبھلنا چاہتی ہوں میں
خزاں کے ڈر سے گھبرا کر پلٹنا چاہتا ہے وہ
ہر اک موسم میں جس کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں میں
مٹا ڈالا ہے یکجہتی کو اس فرقہ پرستی نے
کسی صورت بھی یہ صورت بدلنا چاہتی ہوں میں
میں چاہتی ہوں کہ بن جاؤں کسی کی آرزو میناؔ
کسی کا خواب بن کر دل میں پلنا چاہتی ہوں میں