یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے
یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے سمجھے تھے کہ وہ شکوے گلے بھول گئے ہیں معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے رکھیں گے ترے غم کو زمانے سے چھپا کر تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے آزار پہ آزار دئے جائیں گے ہنس کر ہر حال میں وہ ہم پہ کرم کرتے رہیں ...