پلکوں پہ یہی خواب سجایا ہے کہ تم ہو
پلکوں پہ یہی خواب سجایا ہے کہ تم ہو
یہ سامنے میرے کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
دستک سی ہوئی جب بھی تو دروازے کو میں نے
ہر بار یہی سوچ کے کھولا ہے کہ تم ہو
رونق میں اچانک جو اضافہ سا ہوا ہے
آنگن میں مرے چاند کا ہالہ ہے کہ تم ہو
ہے تلخ حقیقت کہ مجھے چھوڑ گئے ہو
احساس مگر اب بھی یہ ہوتا ہے کہ تم ہو
بیدار تھے جب تک تو مخاطب تھے تمہیں سے
جب آنکھ لگی خواب میں دیکھا ہے کہ تم ہو
تم روح میں اترے ہو پتہ یہ نہیں پھر بھی
آمد کا ہر اک شعر بتاتا ہے کہ تم ہو