تری خوشبو ترا لہجہ میں کہاں سے لاؤں
تری خوشبو ترا لہجہ میں کہاں سے لاؤں
تو بتا دے ترے جیسا میں کہاں سے لاؤں
چاند کو گھیر کے رکھتے ہیں ستارے ہر شب
پھر بھلا چاند کو تنہا میں کہاں سے لاؤں
چشم تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھ لے
ایسا ٹھہرا ہوا دریا میں کہاں سے لاؤں
اس کی خواہش ہے تعلق کا کوئی نام نہ ہو
ایسا بے نام سا رشتہ میں کہاں سے لاؤں
جذب کر لے مجھے خود میں جو سما لے مجھ کو
خشکیوں میں وہ جزیرہ میں کہاں سے لاؤں
کھینچ لائے جو گناہوں کے سمندر سے مجھے
اک ندامت کا وہ قطرہ میں کہاں سے لاؤں