مینا خان کی نظم

    چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

    چمن میں ہم نے دیکھے ہیں بہت ہی خوب صورت پھول الگ رنگت بھی ہے ان کی جدا خوشبو بھی ہے ان کی ہوا چلتی ہے جب بھی تو سبھی پھولوں کو آپس میں گلے ملتے ہی دیکھا ہے صدا ہنستے ہی دیکھا ہے کبھی لڑتے نہیں دیکھا ہمارا ملک بھی میناؔ چمن کے ہی تو جیسا ہے سبھی مذہب یہاں پر ہیں زبانیں بھی بہت سی ...

    مزید پڑھیے

    چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے

    چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے چلو ہم مان لیتے ہیں مقدر میں ہی دوری ہے چلو ہم مان لیتے ہیں تمہاری جو ہے مجبوری چلو ہم مان لیتے ہیں ملے ہم دیر سے تم سے چلو مانا کہ باندھے ہے رسن حالات کی تم کو چلو مانا جدائی کے سوا چارہ نہیں کوئی مگر اتنا بتا دو بس جدا ہونے سے اے ہمدم تعلق ...

    مزید پڑھیے

    کبھی سوچا بھی ہے تم نے

    کبھی سوچا بھی ہے تم نے تمہاری ذات کے اندر اس ایک احساس کے اندر تمہاری روح سے ہو کر تمہاری نبض میں دھڑکن میں ان آتی جاتی سانسوں میں کبھی مدھم ہواؤں میں کبھی سنسان رستوں میں کوئی جگنو چمکتا ہے اور اس کی روشنی میں تم اچانک کھو سے جاتے ہو کبھی خوشبو کی صورت میں رگ جاں میں شہ رگ میں وہ ...

    مزید پڑھیے

    کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں

    کانہا تمہاری یاد میں ہوں بے قرار میں کرتی ہوں لمحہ لمحہ فقط انتظار میں کہہ کر گئے تھے آؤ گے تم جلد لوٹ کر آ کر کرو گے ختم یہ تنہائی کا سفر کیا گوپیوں کے ساتھ میں دل کو لگا لیا کیا رکمنی کے ساتھ نے سب کچھ بھلا دیا کیا تم کو میری یاد بھی آتی نہیں کبھی فرقت یہ میری تم کو رلاتی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    جب دیکھو دور خلاؤں میں

    جب دیکھو دور خلاؤں میں اک چہرہ سا بن جاتا ہو جب تنہائی کے ملتے ہی وہ یاد تمہیں آ جاتا ہو جب انجانے میں چپکے سے اک نام سے نسبت ہو جائے جب اس کو سوچتے رہنے سے کچھ دل کو راحت ہو جائے جب رات اچانک نیند کھلے اس پیکر کی ہی یاد آئے جب اپنی سانسوں سے تم کو ایک شخص کی خوشبو سی آئے جب ...

    مزید پڑھیے