کبھی سوچا بھی ہے تم نے
کبھی سوچا بھی ہے تم نے
تمہاری ذات کے اندر
اس ایک احساس کے اندر
تمہاری روح سے ہو کر
تمہاری نبض میں
دھڑکن میں
ان آتی جاتی سانسوں میں
کبھی مدھم ہواؤں میں
کبھی سنسان رستوں میں
کوئی جگنو چمکتا ہے
اور اس کی روشنی میں تم
اچانک کھو سے جاتے ہو
کبھی خوشبو کی صورت میں
رگ جاں میں
شہ رگ میں
وہ یوں تحلیل ہوتا ہے
نظر کچھ بھی نہیں آتا
مگر جب کورے کاغذ پر
قلم کو ہاتھ میں لے کر
غزل کہنے کو ہوتے ہو
تو وہ مانوس سی خوشبو
تمہارے گرد ایک ہالہ بناتی ہے
مقدس دائرے میں قید کرتی ہے
تو وہ الفاظ کو کاغذ پہ
موتی سے چمکتے ہیں
اسی مانوس سی خوشبو سے
جانے کیوں مہکتے ہیں
تمہارے ذہن اور دل میں
سکوں سا پھیل جاتا ہے
مگر تم کب یہ سمجھو گے
معطر کر رہی ہے جو
تمہاری روح میں بس کر
وہ تم میں ضم ہوئی ہے جو
تمہیں میں رہنا چاہتی ہے