جب دیکھو دور خلاؤں میں
جب دیکھو دور خلاؤں میں
اک چہرہ سا بن جاتا ہو
جب تنہائی کے ملتے ہی
وہ یاد تمہیں آ جاتا ہو
جب انجانے میں چپکے سے
اک نام سے نسبت ہو جائے
جب اس کو سوچتے رہنے سے
کچھ دل کو راحت ہو جائے
جب رات اچانک نیند کھلے
اس پیکر کی ہی یاد آئے
جب اپنی سانسوں سے تم کو
ایک شخص کی خوشبو سی آئے
جب انجانا احساس لیے
وہ ذہن و دل پر چھا جائے
جب دنیا بھر میں اس کے سوا
کوئی اور نظر ہی نا آئے
تب سمجھو میناؔ تم نے بھی
اب عشق کا دامن تھام لیا
اک خواب کبھی جو دیکھا تھا
تعبیر کو اپنے نام کیا
تعبیر کو اپنے نام کیا