چمن میں ہم نے دیکھے ہیں
چمن میں ہم نے دیکھے ہیں
بہت ہی خوب صورت پھول
الگ رنگت بھی ہے ان کی
جدا خوشبو بھی ہے ان کی
ہوا چلتی ہے جب بھی تو
سبھی پھولوں کو آپس میں
گلے ملتے ہی دیکھا ہے
صدا ہنستے ہی دیکھا ہے
کبھی لڑتے نہیں دیکھا
ہمارا ملک بھی میناؔ
چمن کے ہی تو جیسا ہے
سبھی مذہب یہاں پر ہیں
زبانیں بھی بہت سی ہیں
مگر ہم لوگ لڑتے ہیں
جلن آپس میں رکھتے ہیں
محبت کیوں نہیں کرتے
چلو اب ساری نفرت کو
جلن کو اور عداوت کو
مٹانے کی قسم کھائیں
دلوں میں پریم دیپک پھر
جلانے کی قسم کھائیں
محبت اور اخوت کے
شرافت کے صداقت کے
سبق سب کو سکھائیں ہم
گلے سب کو لگائیں ہم
سبھی دھرموں کے لوگو کو
سکھائیں کیا ہے یکجہتی
یہ سپنا تو ہمارا ہے
یہ سب ساکار ہو جائے
ہمارا پیار جو دیکھے
اسے بھی پیار ہو جائے
ہماری اب یہ کوشش ہو
ہر انساں ہو سمن جیسا
ہماری اب یہ کوشش ہو
وطن بھی ہو چمن جیسا