کھلے جو ہم تو بڑھے ہم میں فاصلے کتنے
کھلے جو ہم تو بڑھے ہم میں فاصلے کتنے
بجائے شکر کرم لب پہ تھے گلے کتنے
کبھی صلیب کبھی زہر اور کبھی خنجر
ثبات عشق ملے ہیں تجھے ملے کتنے
کوئی گلو پہ کوئی ہاتھ جیب و داماں پر
رہے ہیں چارہ گروں سے مقابلے کتنے
وصال و ہجر تو دو لفظ ہیں محبت میں
تعلقات میں ہیں اور سلسلے کتنے
ہوئی ہے عشق میں تشہیر چاک داماں کی
یہ دیکھیے تو کہ چاک جگر سلے کتنے