رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا

رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا
تنہائی میں یہ قرب تری انجمن سے تھا


میرا سخن ہی تھا مرا سرمایۂ حیات
پھر میں ہوا شہید بھی اپنے سخن سے تھا


دانشوری کا زہر نہ تھا مجھ پہ کارگر
میرے لباس خاص خرد کے کفن سے تھا


لٹنے سے بھی سوا تھا شکست یقیں کا غم
شب خوں کا احتمال تو تھا راہزن سے تھا


تھے یار تیز گام بھی جادہ شناس بھی
رخ ان کا جو بھی تھا وہ ہوا کے چلن سے تھا


ان سے بچھڑ کے ہوں کوئی آوارہ روح میں
گویا مرا وجود انہیں کے بدن سے تھا


گلچین و باغباں ہی نہیں وارث چمن
مرغان نغمہ خواں کا بھی رشتہ چمن سے تھا