سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا
سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا
میرے لبوں پہ قفل تری آبرو کا تھا
میں گو مگو میں ہی ترے در سے پلٹ گیا
آواز دوستوں کی تھی لہجہ عدو کا تھا
چارہ گروں کو فکر تھی نام و نمود کی
گو اہتمام زخم جگر کے رفو کا تھا
میں بحر زندگی میں جزیرہ نما رہا
دنیا سے ایک ربط تری آرزو کا تھا
ہر خوبرو سے میں نے کیا وعدۂ وفا
سب آئنوں میں عکس مرے خوبرو کا تھا
ماہر ہوں میں بھی خوبئ گفتار کا مگر
درپیش مرحلہ سخن روبرو کا تھا
جو حرف میں نہ صوت میں اظہار پا سکی
سب دوستوں میں ذکر اسی گفتگو کا تھا