ہم بڑے دشت بلا سے گزرے
ہم بڑے دشت بلا سے گزرے
ان سے گزرے نہ خدا سے گزرے
بارہا شہر وفا سے گزرے
ایک سنسان فضا سے گزرے
ہم نے ہر بار در دل کھولا
حادثے تیری ادا سے گزرے
دل میں بکھرے تھے تری یاد کے پھول
غم کے لشکر بھی صبا سے گزرے
تلخ یادوں میں تھی خوشبوئے وفا
اب کے جب کوئے جفا سے گزرے
ہر قدم تیر ملامت کے چلے
لاکھ ہم صدق و صفا سے گزرے
اب ہے تنہائی دشت فرقت
رونق کوئے جفا سے گزرے