ہم سے گفتگو ایسے دے کوئی بیاں جیسے

ہم سے گفتگو ایسے دے کوئی بیاں جیسے
قاعدے کے لفظوں کو مل گئی زباں جیسے


دوستی کی یہ منزل ہے وبال جاں کتنی
بات بات پر ابرو کھنچ گئے کماں جیسے


بات چیت یاروں سے پل صراط پر چلنا
لفظ ملتا رہتا ہے بزم ہو دکاں جیسے


دیکھتا ہوں چہروں کو میں تلاش میں اپنی
نقش خوب غیروں کے ہوں مرا نشاں جیسے


یوں سنبھال کر رکھ لی دل میں دھول یادوں کی
کارواں کی منزل ہو گرد کارواں جیسے