غریق جلوہ کسی جلوہ گر کو کیا دیکھے

غریق جلوہ کسی جلوہ گر کو کیا دیکھے
جو تیری دھن میں چلا رہ گزر کو کیا دیکھے


سحر کے ساتھ ہی سر پر چڑھا پہاڑ سا دن
سر خمیدہ جمال سحر کو کیا دیکھے


دبے ہوئے ہیں مکیں بار سنگ و آہن سے
غریب شہر یہاں بام و در کو کیا دیکھے


مسافروں کی طرح منزلیں سفر میں ہیں
کدھر کو جائے کوئی رہ گزر کو کیا دیکھے


لگن ہے سب کو سیاست کی دھن ہے دولت کی
اب اس جنوں میں کوئی خیر و شر کو کیا دیکھے


سکھی ہوں گھر پہ لگا کر خلوص کی تختی
اب آئے کون ادھر میرے گھر کو کیا دیکھے


نئے نصاب میں تیر نظر کا باب نہیں
سو چارہ گر مرے زخم جگر کو کیا دیکھے