کس تباہی کے یہ آثار نظر آتے ہیں

کس تباہی کے یہ آثار نظر آتے ہیں
دشت میں بھی در و دیوار نظر آتے ہیں


اٹھ گیا آنکھ سے پردہ کہ حقیقت بدلی
جتنے غم خوار تھے خونخوار نظر آتے ہیں


سب کے چہروں پہ ہے غم اشک ہیں آوازوں میں
دوست سب مجھ کو اداکار نظر آتے ہیں


ان کے سینوں میں ہے طوفان بلا آسودہ
یہ جو ساحل پہ سبک سار نظر آتے ہیں


کیا حقائق نے مرے شعر کا جامہ پہنا
واقعے سب مرے اشعار نظر آتے ہیں


کیا یہ سب لوگ ہیں آئینۂ حیرت تیرا
سب کے رخ پر ترے انوار نظر آتے ہیں


اپنے دفتر میں ہے پندار خدائی ان کو
یہ جو عاجز سر دربار نظر آتے ہیں