تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی
تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی وہ دل کے پاس رہے اور بات ہو نہ سکی جلائے جاتے رہے ہم چراغ الفت کے یہ اور بات کہ پر نور رات ہو نہ سکی ہر ایک لمحہ تری جستجو رہی دل کو زہے نصیب الم سے نجات ہو نہ سکی جسے پکارا ہو دل نے جہاں جھکی ہو جبیں سوائے تیرے کوئی اور ذات ہو نہ سکی جلا ہے جب سے ...