Mashkoor Muradabadi

مشکور مرادآبادی

مشکور مرادآبادی کی غزل

    تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی

    تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی وہ دل کے پاس رہے اور بات ہو نہ سکی جلائے جاتے رہے ہم چراغ الفت کے یہ اور بات کہ پر نور رات ہو نہ سکی ہر ایک لمحہ تری جستجو رہی دل کو زہے نصیب الم سے نجات ہو نہ سکی جسے پکارا ہو دل نے جہاں جھکی ہو جبیں سوائے تیرے کوئی اور ذات ہو نہ سکی جلا ہے جب سے ...

    مزید پڑھیے

    علم و فن چڑھتا ہے پروان بڑی مشکل سے

    علم و فن چڑھتا ہے پروان بڑی مشکل سے آدمی بنتا ہے انسان بڑی مشکل سے سیکڑوں راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں حسن ہوتا ہے پشیمان بڑی مشکل سے ہم تو کیا اہل نظر کو بھی ہوئی ہے اکثر دشمن و دوست کی پہچان بڑی مشکل سے شکریہ آپ نے دیکھا ہے محبت سے ہمیں سر سے اترے گا یہ احسان بڑی مشکل سے کعبہ و ...

    مزید پڑھیے

    جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے

    جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے وہ دل اک سنگ ہے شیشہ نہیں ہے بھلا دیں وہ مجھے ایسا نہیں ہے مگر اب جی کہیں لگتا نہیں ہے خدایا لاج رکھنا ضبط غم کی مزاج زندگی اچھا نہیں ہے حکومت ذہن و دل پر ہے اسی کی جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے اسے دنیا کی آنکھیں تک رہی ہیں وہ بادل جو ابھی برسا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    خواب غفلت سے ہم تو اب ٹوٹے

    خواب غفلت سے ہم تو اب ٹوٹے کس طرح یہ طلسم شب ٹوٹے وہ خدا جانے مہرباں کب ہوں سلسلہ بے رخی کا کب ٹوٹے شکل اپنی لگے ہے بیگانی حادثے ہم پہ کیا عجب ٹوٹے بچھ گئی ہر طرف صف ماتم فوج باطل پہ آپ جب ٹوٹے جب یقیناً خطا ہے آنکھوں کی شیشۂ دل پہ کیوں غضب ٹوٹے معترض تم پہ تو زمانہ تھا کس لئے ...

    مزید پڑھیے

    ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے

    ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے خود کو امن و امان میں رکھئے حوصلوں کو اڑان میں رکھئے منزلیں آسمان میں رکھئے دوریاں قربتیں بڑھاتی ہیں فاصلے درمیان میں رکھئے جانے کس وقت وہ پلٹ آئیں روشنی سائبان میں رکھئے تند گوئی بھلی نہیں لگتی نرم لہجہ زبان میں رکھئے جان حق پر لٹائیے ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ جس شخص کے مکان میں ہے

    دھوپ جس شخص کے مکان میں ہے وہ اجالوں کے سائبان میں ہے کس کی جانب نظر اٹھاؤں میں تجھ سا کوئی کہاں جہان میں ہے اک انا کے سوا نہیں کچھ بھی جو مرے تیرے درمیان میں ہے ہیں تبسم کے پھول ہونٹوں پر خار تشنہ لبی زبان میں ہے کس طرح تجھ کو غیر کہہ دوں میں اک یہی سچ مرے بیان میں ہے زندگی سے ...

    مزید پڑھیے

    مری نگاہ میں ہر شخص بے حجاب سا ہے

    مری نگاہ میں ہر شخص بے حجاب سا ہے ہر ایک شخص کا چہرہ کھلی کتاب سا ہے ترے قریب رہیں ہم تجھے نہ دیکھ سکیں ہماری آنکھوں پہ شاید کوئی حجاب سا ہے تلاش میں ہیں سکوں کی سکوں نہیں ملتا ہمارا جسم بھی ہم پر کوئی عتاب سا ہے فضا میں بغض و عداوت کی گرد ہے رقصاں ہمارے شہر کا موسم ابھی خراب سا ...

    مزید پڑھیے

    ان کا دیوانہ سدا ان پہ نظر رکھتا ہے

    ان کا دیوانہ سدا ان پہ نظر رکھتا ہے خود سے بیگانہ سہی ان کی خبر رکھتا ہے چہرہ چہرہ متبسم ہے تری محفل میں پھر بھی اک چہرہ ابھی دیدۂ تر رکھتا ہے اب تو انساں سے غنیمت ہے اک ادنیٰ پنچھی لاکھ کمزور سہی اپنا تو گھر رکھتا ہے جس کی سانسوں میں بسی ہو تری یادوں کی مہک غنچہ و گل پہ وہ کب ...

    مزید پڑھیے

    خدا شناس بزرگوں کی یادگار ہیں ہم

    خدا شناس بزرگوں کی یادگار ہیں ہم خزاں نے لوٹ لیا جس کو وہ بہار ہیں ہم جو چاہتا ہے زمانہ سزائیں دے ہم کو کیا ہے جرم محبت قصوروار ہیں ہم خلاف اپنے زمانہ ہوا تو کیا غم ہے خدا سے فضل و کرم کے امیدوار ہیں ہم وہ اپنا وعدہ نباہیں گے ہے گماں ہم کو فریب دیتے ہیں خود کو فریب کار ہیں ...

    مزید پڑھیے

    بصد خلوص بصد احترام لکھ دینا

    بصد خلوص بصد احترام لکھ دینا تم ان کو خط میں ہمارا سلام لکھ دینا ہم ان کی یاد سے غافل نہیں کسی لمحہ ہمارے دل میں ہے ان کا قیام لکھ دینا ہم ان کی یاد سے ہوتے رہیں گے لطف اندوز حیات ہونی ہے یوں ہی تمام لکھ دینا ہمارے بعد بھی رکھے ہمیں زمانہ یاد ہمارے حصہ میں عمر دوام لکھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2