خدا شناس بزرگوں کی یادگار ہیں ہم
خدا شناس بزرگوں کی یادگار ہیں ہم
خزاں نے لوٹ لیا جس کو وہ بہار ہیں ہم
جو چاہتا ہے زمانہ سزائیں دے ہم کو
کیا ہے جرم محبت قصوروار ہیں ہم
خلاف اپنے زمانہ ہوا تو کیا غم ہے
خدا سے فضل و کرم کے امیدوار ہیں ہم
وہ اپنا وعدہ نباہیں گے ہے گماں ہم کو
فریب دیتے ہیں خود کو فریب کار ہیں ہم
نسیم صبح بہاراں ہمارے پاس نہ آ
ہمیں نہ چھیڑ کہ محو خیال یار ہیں ہم
جسے نہ توڑ سکیں گردشیں زمانے کی
حواس و ہوش کا مشکورؔ وہ حصار ہیں ہم