ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے
ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے
خود کو امن و امان میں رکھئے
حوصلوں کو اڑان میں رکھئے
منزلیں آسمان میں رکھئے
دوریاں قربتیں بڑھاتی ہیں
فاصلے درمیان میں رکھئے
جانے کس وقت وہ پلٹ آئیں
روشنی سائبان میں رکھئے
تند گوئی بھلی نہیں لگتی
نرم لہجہ زبان میں رکھئے
جان حق پر لٹائیے مشکورؔ
زندگی آن بان میں رکھئے