ان کا دیوانہ سدا ان پہ نظر رکھتا ہے
ان کا دیوانہ سدا ان پہ نظر رکھتا ہے
خود سے بیگانہ سہی ان کی خبر رکھتا ہے
چہرہ چہرہ متبسم ہے تری محفل میں
پھر بھی اک چہرہ ابھی دیدۂ تر رکھتا ہے
اب تو انساں سے غنیمت ہے اک ادنیٰ پنچھی
لاکھ کمزور سہی اپنا تو گھر رکھتا ہے
جس کی سانسوں میں بسی ہو تری یادوں کی مہک
غنچہ و گل پہ وہ کب اپنی نظر رکھتا ہے
تیرے آنے سے یقیں مجھ کو ہوا ہے اے دوست
جذبۂ شوق ملاقات اثر رکھتا ہے
جس کو جینے کا سلیقہ نہیں آتا مشکورؔ
اپنے دامن میں وہی لعل و گہر رکھتا ہے