بصد خلوص بصد احترام لکھ دینا

بصد خلوص بصد احترام لکھ دینا
تم ان کو خط میں ہمارا سلام لکھ دینا


ہم ان کی یاد سے غافل نہیں کسی لمحہ
ہمارے دل میں ہے ان کا قیام لکھ دینا


ہم ان کی یاد سے ہوتے رہیں گے لطف اندوز
حیات ہونی ہے یوں ہی تمام لکھ دینا


ہمارے بعد بھی رکھے ہمیں زمانہ یاد
ہمارے حصہ میں عمر دوام لکھ دینا


کبھی کبھی تو نگاہ کرم ضروری ہے
کوئی تو نامہ ہمارے بھی نام لکھ دینا


تمہارے نام سے ہوتا ہے آفتاب طلوع
تمہارے نام سے روشن ہے شام لکھ دینا


ہمارے واسطے اتنا کرم ہی کافی ہے
ہمارا نام بصد احترام لکھ دینا


سوا تمہارے تو مشکورؔ کا نہیں کوئی
خلوص دل سے کوئی تو پیام لکھ دینا