تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی

تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی
وہ دل کے پاس رہے اور بات ہو نہ سکی


جلائے جاتے رہے ہم چراغ الفت کے
یہ اور بات کہ پر نور رات ہو نہ سکی


ہر ایک لمحہ تری جستجو رہی دل کو
زہے نصیب الم سے نجات ہو نہ سکی


جسے پکارا ہو دل نے جہاں جھکی ہو جبیں
سوائے تیرے کوئی اور ذات ہو نہ سکی


جلا ہے جب سے نشیمن مرا گلستاں میں
چمن میں کوئی نئی واردات ہو نہ سکی


برائے نام ہوں مشکورؔ میں زمانے میں
حیات میری ابھی تک حیات ہو نہ سکی